April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/customessayonline.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
معیشت مضبوط کرنا ہو گی، کمزور کی کوئی نہیں سنتا، وزیراعظم: صدر سے ملاقات

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی +نمائندہ خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے بڑے ٹیکس دہندگان کو  بلیو پاسپورٹ  اور  اعزازی سفیر کا درجہ دینے کا  اعلان کیا ہے۔ ٹیکس ایکسی لینس ایوارڈ کی تقریب سے خطاب  میں شہباز شریف نے کہا ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو بلیو  پاسپورٹ اور  پاکستان کے اعزازی سفیرکا درجہ دیا جائے گا۔ گاڑی کے دو پہیے ہیں، ایک نجی سیکٹر اور دوسرا حکومت  اور  وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کرنجی سیکٹرکی مدد کرنی ہے۔ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں بلکہ ٹیکس دہندگان کو بہتر ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔  معیشت  مضبوط ہوتی ہے تو قوم کی آواز سنی جاتی ہے، کمزور معیشت کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ قرضے لے کر تنخواہیں ادا کررہے ہیں اور ترقیاتی کام کروا رہے ہیں، آخر ہم کب تک قرضے کی زندگی گزاریں گے۔  آئی ایم ایف کا پروگرام استحکام کے لیے ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہوگیا ہے اور اگلے ماہ قسط مل جائے گی مگر آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اور پروگرام کرنا ہے۔  ہمیں عوام کے مسائل حل کرنے ہیں، سرخ فیتے کو ختم کرنا ہے۔  اس تقریب کا واحد مقصد تمام ہیروز کو جو یہاں شریک ہیں جنہوں نے اچھے ٹیکس دہندہ ہونے کے ناطے محنت کی کمائی سے ٹیکس ادا کیا اور شبانہ روز محنت کے ذریعے پاکستان کی ایکسپورٹس میں شاندار خدمات انجام دیں ان کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ ہمیں عوام کے مسائل حل کرنے ہیں اور سرخ فیتے  اور نااہلیوں کو ختم کرنا ہے اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس کے ذریعے آپ نے اپنے شعبوں میں محنت کر کے پاکستان کو معاشی ترقی کی دوڑ میں بڑھانا ہے جس میں وہ بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ ٹیکس دہندگان کو بہتر ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔  پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ معماران پاکستان ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت سے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز میں  لوہا منوایا، بزنس انٹرپرائزز میں نمایاں کارکردگی کی حامل خواتین اور غیر روایتی برآمدات میں کردار ادا کرنے والوں، برآمدات اور ٹیکس بڑھانے والوں کو قوم کے سامنے ایوارڈ دینا ضروری تھا۔ مہنگا تیل درآمد کر کے بجلی کی پیداوار کو بتدریج ختم کرنا ہوگا۔ ہمارے پاس موسم سرما اور گرما دونوں میں سرپلس بجلی ہے، اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے ہمیں لاسز کم کرکے بڑے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایف بی آر کی تشکیل نو کرنی ہے۔ اپریل میں اس حوالے سے کنسلٹنٹ تعینات ہو جائے گا، اسے مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔ 2700 ارب روپے مقدمہ بازی کی وجہ سے التوا میں ہیں۔ ہم ٹربیونلز میں ایماندار لوگ لے کر آئیں جو میرٹ پر فیصلے کریں۔ سال ہا سال کیس نہ لٹکائے جائیں۔ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں غزہ جنگ بندی سے متعلق قرارداد منظور کی گئی، جو کہ خوش آئند ہے تاہم اس پر عمل درآمد بہت ضروری ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے فلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سے ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، اسرائیلی جارحیت اور تباہی میں بچوں سمیت ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جس کی عصر حاضر میں کوئی مثال نہیں ہے۔ دنیا کے دیگر مذاہب، ممالک نے بھی اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل کے بغیر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ پاکستان پوری اسلامی دنیا کے ممالک اور دوسرے ممالک کے ساتھ بھی اپنے فلسطینی بھائیوں کی ایک آزاد مملکت کے لیے بھرپور آواز اٹھاتا رہا ہے اور اٹھاتا رہے گا یہاں تک کہ انہیں یہ حق مل نہیں جاتا۔ ہمارے معاشی مسائل تبھی حل ہو سکتے ہیں جب ہم پرائیویٹ سیکٹر کے لیے اچھے مواقع پیدا کریں، انہیں پوری طرح سے سپورٹ کریں۔  کشکول کی پالیسی کو اب ترک کرنا ہوگا۔ اب تو کشکول لے کر نہ بھی جائیں تو اگلے کہتے ہیں کہ کشکول ان کی بغل میں ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ یہ ہمارے لیے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا وقت ہے۔ وہ قومیں ہم سے بہت آگے نکل گئیں جنہوں نے کبھی کشکول نہیں اٹھایا۔ آج ہم پر قرضوں کا پہاڑ ہے،  جب سے حلف اٹھایا ہے، تب سے اب تک معیشت کی بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کررہے ہیں۔  آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ ساتھ ہمیں محنت اور آگے بڑھنے کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا۔ ملازمت کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے، مہنگائی میں کمی لانا ہوگی، زراعت اور ایکسپورٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف پروگرام میں کچھ حدود و قیود ضرور ہوتی ہیں مگر جو کچھ ہمارے اختیار میں ہے، اس کے لیے ہمیں کسی بہانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے ادارے جو خسارے کا سامنا کررہے ہیں ان کی نجکاری کررہے ہیں۔ ائرپورٹس اور پی آئی اے کو پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے۔ جب تک بجلی، گیس اور دیگر اداروں کے خساروں کو کم نہیں کیا جاتا، تب تک معیشت کا خلا پْر نہیں ہو سکتا۔ اور اگر یہ سب کرلیا تو پاکستان ضرور ترقی کرے گا۔ دوسری جانب  صدرِ  زرداری سے وزیراعظم  نے ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے  ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور  ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے کیلئے مشترکہ عزم کا اظہارکیا۔ صدر اور وزیراعظم  نے رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف پہنچانے کیلئے اقدامات پر بھی گفتگو کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *