April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/customessayonline.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

۲۰۲۰ء میں لبنان کی بیروت بندرگاہ پر زبردست دھماکہ ہوا تھا۔ امونیم نائٹریٹ کے دھماکے سے تباہ شدہ بیروت بندرگاہ کی تعمیر نو کیلئے لبنانی اور فرانسیسی حکام نے ایک مشترکہ منصوبہ تیار کیا ہے۔ فرانسیسی حکومت مالی اعانت فراہم کرے گی جبکہ بندرگاہ کے ساتھ بیروت کی سڑکوں اور علاقوں کی بھی مرمت کی جائے گی۔

A view of Beirut harbor. Photo: INN

 بیروت کی بندرگاہ پر لاپرواہی سے ذخیرہ شدہ سیکڑوں ٹن امونیم نائٹریٹ میں آگ لگنے سےدنیا کے سب سے بڑے غیر جوہری دھماکوں میں سے ایک کے ساڑھے تین سال بعد لبنانی اور فرانسیسی حکام نے تعمیر نو کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ 
۴؍اگست ۲۰۲۰ء کو بیروت بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے میں ۲۰۰؍ سے زائد افراد ہلاک، ہزاروں زخمی اور بے گھر ہوئے تھے اور آس پاس کے تمام محلے تباہ ہوگئے تھے۔ دھماکے کی وجوہات کی تحقیقات رک گئی ہیں اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو کا کام بڑے پیمانے پر نجی امداد سے کیا گیا ہے کیونکہ تعمیر نو کیلئے جس بین الاقوامی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ بڑی حد تک سیاسی اصلاحات سے مشروط تھے جو کبھی وقوع پذیر نہیں ہوئے۔ 
ابھی تک بندرگاہ کی تعمیر نو کیلئے پیش کی جانے والی متعدد تجاویز ناکام ہو گئی ہیں جن میں ۲۰۲۱ءمیں جرمن کمپنیوں کے ایک گروپ کی طرف سےتعمیر نو کیلئے تجویز کردہ ایک منصوبہ بھی شامل ہے جس کے مطابق بندرگاہ کےساتھ نئی تجارتی اور رہائشی بستی کی تعمیر کا بھی منصوبہ تھا۔ 
 ۲۰۲۲ءمیں فرانسیسی شپنگ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم گروپ نے بندرگاہ پر کنٹینر ٹرمینل چلانے کیلئے دس سال کا معاہدہ حاصل کیا۔ فرانسیسی حکومت نے بدھ کو دو فرانسیسی انجینئرنگ فرمز، آرٹیلیا اور ایگیس کی طرف سے پیش کئے گئے منصوبے پر عمل درآمد کیلئے مالی اعانت فراہم کی۔ یہ دھماکے میں تباہ ہونے والے راستوں کی تعمیر نو پر توجہ مرکوز کرے گا، ٹریفک کو ہموار کرنے کیلئے بندرگاہ کو دوبارہ ترتیب دے گا، اور سہولت کو شمسی توانائی پر منتقل کرے گا۔ 
 ایک فرانسیسی عوامی ایجنسی ایکسپرٹائز فرانس نے بندرگاہ پر حفاظت کو بہتر بنانے کیلئے سفارشات کے ساتھ ایک جائزہ لیا۔ لبنان کو تعمیر نو کو مکمل کرنے کیلئے ۶۰؍ سے ۸۰؍ ملین امریکی ڈالر کی لاگت درکار ہوگی جو بندرگاہ کی آمدنی کو استعمال کرکے مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 

بندرگاہ کے ڈائریکٹر جنرل عمر ایتانی نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا آمدنی جو کوو‏ڈ وبائی امراض اور لبنان کے ۲۰۲۳ء میں ۱۵۰؍ ملین امریکی ڈالر تک پہنچنے والے غیرمعمولی معاشی بحران کے بعد اب ظہور کی جانب گامزن ہے۔ 
 اس موقع پر لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی اور لبنان میں فرانس کے سفیر بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی کمپنیوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ میکاتی نے صحافیوں کو بتایا کہ لبنان اور فرانس کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات ہیں جن پر ہمیں فخر ہے، ان تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے جو اس وقت سے چلے آرہے ہیں جب چھوٹی عرب قوم پہلی جنگ عظیم کے بعد۱۹۴۳ء میں آزادی تک فرانسیسی محافظ تھی۔ 
انہوں نے کہا کہ ’’ہم لبنان کیلئے فرانس کی حمایت کو اس لئے خصوصی درجہ تصور کرتے ہیں کیونکہ یہ بین الاقوامی برادری کے دل کی نمائندگی کرتا ہے۔ ‘‘ مگرو نے کہا کہ بیروت بندرگاہ کی تعمیر نو فرانس کی لبنان کیلئےہماری حمایت کی ترجیحات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’لبنانی معیشت کو درحقیقت بیروت کی تعمیر نو، جدید اور محفوظ بندرگاہ کی ضرورت ہے۔ ‘‘
تاہم، بدھ کو پیش کئے گئے منصوبے میں بندرگاہ کے بڑے پیمانے پر اناج کے سائلوز پر توجہ نہیں دی گئی، جس نے دھماکے کے زیادہ تر جھٹکے کو جذب کر لیا تھا، جس سے بیروت کے مغربی حصے کو دھماکے سے مؤثر طریقے سے بچا لیا گیا تھا۔ 
لبنانی حکومت نے ایک موقع پر تباہ شدہ سائلو کو گرانے کا منصوبہ بنایالیکن اس وقت اس کے خلاف فیصلہ کیا جب دھماکے کے متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کے اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے ان کو یادگار کے طور پر اور ممکنہ طور پر ان میں عدالتی تحقیقات کیلئے کارآمد شواہد کی موجو دگی کی بنا پر محفوظ کرنے کا مطالبہ کیا۔ سائلوز کا ایک بڑا حصہ ۲۰۲۲ءمیں منہدم ہو گیا تھا جبکہ باقی حصہ کو یوں ہی اپنی جگہ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *