April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/customessayonline.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

عالمی تنظیم نےقانون کوامتیازی ،مساوات کے منافی اور حقوق انسانی کے خلاف ہونے کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا، نئی دہلی برہم، تشویش کو غلط فہمی پر مبنی اور غیر ضروری قرار دیا، دعویٰ کیا کہ قانون شہریت دینے کیلئےہے، چھیننے کیلئے نہیں۔

Residents of Assam protesting against the Citizenship Amendment Act. Photo: PTI

آسام کے باشندے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے والے متنازع قانون’شہریت ترمیمی ایکٹ‘ (سی اے اے) کے خلاف جہاں  ملکی سطح پر احتجاج کیا جا رہا ہے وہیں  عالمی سطح  پر بھی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ امریکہ نے ایک بار پھر اس قانون کے نافذ پر تشویش کااظہا رکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ہندوستانی اکائی نے بھی مودی سرکار کے پاس کردہ قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون اپنےآپ میں  نہ صرف امتیازی نوعیت کا ہے بلکہ آئین کے اصولوں  کے خلاف، حق مساوات کے منافی اور عالمی حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے۔ 
  امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھو ملر نے جمعرات کو میڈیا سے معمول کی یومیہ بات چیت کے دوران کہا کہ ’’۱۱؍ مارچ کو شہریت ترمیمی ایکٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے پر ہمیں  بھی تشویش ہے۔ ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس قانون کو کس طرح نافذ کیا جاتاہے۔ ‘‘ ایک سوال کے جواب میں   میتھو ملر نے کہا کہ’’ تمام مذاہب کا احترام اور قانوناً تمام مذاہب کے ماننےوالوں  کے ساتھ یکساں  برتاؤ جمہوریت کی اساس ہے۔ ‘‘یاد رہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۴ء سے قبل آنے والے غیر مسلم افراد کو بغیر کسی دستاویز کے شہریت دینے کا انتظام کیاگیاہے تاہم مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیاہے۔ 
دوسری طرف ہندوستان نے سی اے اے کے تعلق سے ہر طرح کی تشویش کو غیر ضروری اورغلط فہمی پر مبنی قرار دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے تشویش کے اظہار پر وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو بیان جاری کیا کہ ’’ہندوستان کا آئین تمام شہریوں  کیلئے مذہب کی آزادی کی ضمانت دیتاہےاس لئے ملک کی اقلیتوں  سے برتاؤ کے تعلق سے کسی کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں  ہے۔ شہریت ترمیمی ایکٹ کو ’داخلی معاملہ‘ قرار دیتے ہوئے انہوں  نے کہا کہ یہ قانون سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ہندوستانی روایت کے مطابق ہے۔ انہوں  نے دعویٰ کیا کہ اس قانون کا مقصد پڑوسی ملکوں کے اقلیتی سماج ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی طبقے کے ستائے گئے افراد کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں   نے زور دے کر کہا کہ ’’سی اے اے شہریت دینے کیلئے چھیننے کیلئے نہیں، یہ بے وطن افراد کو انسانی وقار فراہم کرتا ہے اور حقوق انسانی کی تائید کرتاہے۔ ‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *