April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/customessayonline.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

پاکستان میں شریف حکومت قائم ہونے کے بعد نواز شریف کے دونوں بیٹے حسن نواز اور حسین نواز بھی پاکستان لو ٹ آئے ہیں۔ دونوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کو ختم کرنے کی در خواست دی جسے عدالت نے قبول کر لیا۔ فوج کی حمایت حاصل ہونے کے بعد اب پورے شریف خاندان کا تمام مقدمات سے بری ہونے کا امکان۔

Nawaz Sharif`s two sons. Photo: X

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دونوں بیٹے پناما پیپرز اسکینڈل میں احتسابی عدالت کی جانب سے ان کے وارنٹ گرفتاری کو معطل کرنے اور چھ سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد منگل کو برطانیہ سے پاکستان واپس پہنچ گئے۔ 
حسن نواز اور حسین نواز ۲۰۱۶ءکے پناما پیپرزا سکینڈل میں نام آنے کے بعد ۲۰۱۸ءمیں ملک چھوڑ گئے تھے۔ احتسابی عدالت نے انہیں ۲۰۱۸ء میں ایون فائل کیس میں اشتہاری مجرم قرار دیا تھا اور ان کے خلاف ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کئے تھے۔ یہ معاملہ شریف خاندان کی ملکیت اور لندن میں پر تعیش اپارٹمنٹس کے حصول پر مرکوز ہے۔ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) نے ایک بیان میں کہا کہ شریف کے بیٹے منگل کو لندن سے یہاں پہنچے اور انہیں سخت حفاظت میں لاہور کے گھر لے جایا گیا۔ 
 نواز شریف مسلم لیگ ن کے سر براہ ہیں۔ شریف خاندان کی رہائش گاہ کو پہلے ہی وزیر اعلیٰ ہاؤس قرار دیا جا چکا ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف کی سیکوریٹی اور پروٹوکول کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ 
حسین اور حسن نے اپنے وکیل کے ذریعے اسلام آباد کی احتسابی عدالت میں درخواست دی کہ ان کے خلاف ایون فیلڈ میں جاری کئے گئے وارنٹ معطل کئے جائیں، جسے قبول کر لیا گیا۔ گزشتہ ہفتے عدالت نے پناما پیپرز اسکینڈل سے متعلق بد عنوانی کے تین مقدمات میں ان کے وارنٹ گرفتاری ۱۴؍ مارچ تک معطل کردیئے تھے۔ 
دونوں بھائی، جو برطانوی شہری ہیں، ۲۰۱۸ءمیں ان کے والد نواز شریف، بہن مریم نواز اور ان کے شوہر محمد صفدر کے ساتھ مقدمات میں ملوث پائے گئےتھے۔ نواز شریف سمیت دیگر تمام ملزمان تمام مقدمات سے بری ہو چکے ہیں اور صرف دونوں بھائیوں کو عدالتوں کا سامنا کرنا باقی تھا کیونکہ ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان پر باقاعدہ مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ ان کے والد کی طرح دونوں بھائیوں کے تینوں مقدمات میں بری ہونے کا امکان ہے کیونکہ قومی احتساب بیورو (نیب)، جس نے ان کے خلاف یہ مقدمات قائم کئے تھے، انہیں کلین چٹ دے دی ہے۔ 
۲۰۱۸ء میں نواز شریف، مریم اور صفدر کو ایون فیلڈ میں سزا سنائی گئی۔ تین بار کے سابق وزیراعظم کو العزیزیہ کیسز میں بھی سزا سنائی گئی جبکہ فلیگ شپ کیس میں بری ہو گئے۔ ان سب نے الگ الگ سزاؤں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ مریم اور صفدر کو ۲۰۲۲ءمیں سب سے پہلے راحت ملی جب انہیں بری کر دیا گیا جبکہ نواز شریف اس وقت لندن میں مقیم تھے۔ چونکہ شریف خاندان اور ان کی جماعت مسلم لیگ ن کو موجودہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہے ان کے خلاف تمام مقدمات یا تو بند ہو چکے ہیں یا وہ بری ہو چکے ہیں۔ 
گزشتہ سال اکتوبر میں نواز شریف برطانیہ میں چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس آئے اور مختصر کارروائی کے بعد انہیں تمام مقدمات سے بری کر دیا گیا۔ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مخلوط حکومت بنانے کا معاہد ہ پر اتفاق کے بعد ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف دوسری بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 
نواز شریف کی ۵۰؍ سالہ بیٹی مریم نے ۲۶؍ فروری کو پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے اور سیاسی طور پر انتہائی اہم صوبہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *