April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/customessayonline.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

جنوبی کوریا میں گزشتہ ماہ سے جاری طبی اصلاحات مخالف ہڑتال کو اب سینئر ڈاکٹروں کی بھی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ ڈاکٹروں نے ۲۵؍ مارچ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسپتالوں میں اضطراب جبکہ حکومت اپنے فیصلے پر قائم۔ عوام مذاکرات کے حق میں۔

A scene from the doctors` strike. Image: X

ڈاکٹروں کی ہڑتال کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

 جنوبی کوریا کے سینئر ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے سنیچر کو کہا کہ وہ جونیئر ڈاکٹروں کی حکومتی تربیتی اصلاحات کے خلاف تقریباً ایک ماہ سے جاری ہڑتال کی حمایت میں ۲۵؍مارچ سے مستعفی ہو جائیں گے۔ ڈاکٹرں کے اس فیصلے نے اسپتالوں کواضطراب میں مبتلاکر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ۲۰؍ فروری کو ہزاروں زیر تربیت ڈاکٹروں نے حکومتی اصلاحات کے خلاف بطور احتجاج کام کرنا بند کر دیا جس کا مقصد طبی طلبہ کی تعداد میں اضافہ کر کے ڈاکٹروں کی قلت کو کم کرنا ہے جبکہ طبی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ زیادہ کام کرنے والے اور کم معاوضہ والے ابتدائی کریئر کے پیشہ ور افراد کیلئے آخری سہارا ہے۔ 
اہم سرجری اور علاج کو منسوخ کر دیا گیا ہے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ ملک اب تک اس بحران سے مکمل طور پر بچاہوا ہے جبکہ نرسوں اور سینئر ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ فوجی طبی ماہرین بھی مدد کیلئے بھیجے گئے ہیں۔ گروپ کے سربراہ بنگ جے سیونگ نے کہا ۲۰؍ یونیورسٹیوں کے میڈیکل پروفیسرز کے نمائندوں نے جو جنرل اسپتالوں کے سینئر ڈاکٹر بھی ہیں، جمعہ کے آخر میں ایک ملاقات کی، جس میں ۱۶؍ ادارے اپنے جونیئر ساتھیوں کی حمایت کرنے کے حق میں تھے۔ بینگ نے سنیچر کو صحافیوں کو بتایا کہ ہر یونیورسٹی کے پروفیسرز نے رضاکارانہ طور پر ۲۵؍مارچ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہالیکن ہم اس اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں کہ جب تک استعفیٰ کو حتمی شکل نہیں دی جاتی، ہر فرد کو اپنے متعلقہ مریضوں کے علاج میں اپنی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ جیسا کہ انہوں نے اب تک کیا ہے۔ ‘‘ 
بینگ نے ۲۵؍مارچ کو ملازمت چھوڑنے والے پروفیسرز کی صحیح تعداد کا انکشاف نہیں کیا۔ وزارت صحت نے اس ہفتے اس بات کا اعادہ کیا کہ صحت کی دیکھ بھال کی اصلاحات پر بات چیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور کہا کہ وہ اصلاحاتی منصوبوں کو بغیر ڈگمگاے نافذ کرے گی۔ 
حکومت نے جونیئر طبی ماہرین کو واپس آنے یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کا حکم دیا ہے، اور تعمیل کرنے سے انکار کرنے والوں کے میڈیکل لائسنس معطل کرنے کیلئے حرکت میں آئی ہے جبکہ و اک آؤٹ کو ترک کرنے والوں کو مراعات کی پیشکش کی ہے اور ان کی مدد کیلئے ہاٹ لائن قائم کی ہے۔ 
واضح رہے کہ مرکز اگلے سال سے سالانہ ۲؍ ہزار مزید طلبہ کو میڈیکل اسکولوں میں داخل کرنے پر زور دے رہا ہے تاکہ اس بات کو حل کیا جا سکے کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ ڈاکٹر اور آبادی کے سب سے کم تناسب میں سے ایک ہے۔ بینگ نے سنیچرکو کہا کہ ڈاکٹر کسی بھی حالت میں مزید۲؍ ہزار طلبہ کے اضافے سے اتفاق نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے ایک بار پھر درخواست کرتے ہیں۔ براہ کرم ۲؍ ہزارکے اعداد و شمار پر نظر ثانی کریں۔ اس کے بغیر کسی بھی قسم کی بات چیت کا آغاز ناممکن ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر موجودہ صورت حال جاری رہی، تو یونیورسٹی کے اسپتالوں کےختم ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، جو ہمارے ملک کے طبی نظام کیلئے ایک اہم اور دیرپا دھچکا ثابت ہو گا۔ ‘‘ 
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان اصلاحات سے خدمات اور طبی تعلیم کا معیار خراب ہو جائے گا، لیکن اس منصوبے کے حامی ان پر الزام لگارہے ہیں کہ وہ اپنی تنخواہوں اور سماجی حیثیت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جونیئر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس ہفتے انہوں نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کو ہنگامی مداخلت کی درخواست کرنے والا خط ارسال کیا ہے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ انہیں حکومت کی طرف سے ناپسندیدہ مشقت پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ 
 خیال رہے کہ اصلاحاتی منصوبے کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے، لیکن مقامی میڈیا کے ایک نئے سروے میں پایا گیا کہ ۳۴؍فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت تعطل کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کرے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *